کاروار:6/مئی (ایس اؤنیوز)سنڈیکیٹ بینک کے گاہکوں کے کھاتوں سے نیفٹ NEFT کے ذریعے رقم لوٹنے والی دھوکہ باز عورت کا بالاخر بینک والوں نے ہی پتہ لگا لیا ہے۔ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ایک ناخواندہ عورت کچرے کے ڈبے (ڈسٹ بین) میں پھینکی جانے والی معمولی چٹی میں لکھی ہوئی تفصیلات کوبینک میں موجود دوسرے گاہکوں کے ذریعےنئی سلپ پُر کرکےہوبہو دستخط ثبت کرتے ہوئے نیفٹ کے ذریعے بیلگام کی فیڈرل بینک اکائونٹ کو رقم منتقل کررہی تھی۔
معاملے کو لے کر اخبارات میں جب خبر شائع ہوئی تو تفتیش کے لئے حیدرآباد سے ایک خصوصی ٹیم کاروارپہنچی اور جانچ شروع کی جس کے دوران پتہ چلا کہ گاہکوں کی رقم لوٹنے والی بیلگام کی ایک ناخواندہ عورت ہے۔ جانچ کے دوران پتہ چلا ہے کہ بینک میں کوئی گاہک نیفٹ کے ذریعے رقم منتقل کرکے چٹی وہیں پر ڈسٹ بین میں پھینک کر چلے جاتے تھے۔ متعلقہ دھوکہ باز عورت ایک وانیٹی بیاگ لے کر سنڈیکیٹ بینک پہنچتی تھی جہاں سے لوگوں کے ذریعے پھینکی ہوئی سلپ کو کچرے کے ڈبے سے نکال کر بینک میں موجود گاہکوں کو پھانس کر بیلگام فیڈرل بینک کے کھاتے میں رقم منتقل کرتی تھی۔ اس طرح اس عورت کی مدد کرنے والے ایک سنڈیکیٹ بینک کے گاہک نے بینک کی جانچ کرنے والی ٹیم سے ملاقات کرکے پوری تفصیلات سے آگاہی دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس کانام و دیگر تفصیلات سی سی ٹی وی کے ذریعے بینک والوں کو حاصل ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دھوکہ باز عورت نے سنڈیکیٹ بینک کے صرف 4گاہکوں کو ہی نہیں بلکہ کافی دیگر گاہکوں کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ کیا ہے۔
واقعہ اُس وقت منظر عام پر آیا جب ضلعی طلبا فیڈریشن کے صدر راگھو نائک نے اپنے بینک اکائونٹ سے 6500روپئے گم ہونے کی کاروار پولس میں شکایت درج کرائی۔، جس کے بعد یہ معاملہ آگے بڑھا اور جانچ میں تیزی آئی ۔ دھوکہ باز عورت کے متعلق پتہ چلا ہے کہ اُس نے بیلگام کے فیڈرل بینک اکائونٹ میں جمع کی گئی تمام رقم نکال چکی ہے، جانچ ٹیم فی الوقت بیلگام میں ہے جہاں وہ مزید چھان بین جاری ہے۔